اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، اسرائیل کے عبرانی زبان کے اخبار ہاآرتض نے گزشتہ روز کی اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ سعودی عرب جس کے پاس امریکہ کے پیشرفتہ ترین ہتھیار موجود ہیں اور اس کے جنگی پائلٹ امریکہ کے تربیت یافتہ ہیں اور دوسری جانب سے واشنگٹن بھی یمن کی جنگ میں سعودی عرب کو قیمتی معلومات فراہم کر رہا ہے ایسے حال میں انصار اللہ کو شکست دے کر سعودی عرب کو بہت جلد یہ جنگ اپنے نفع میں تمام کر دینا چاہیے تھی اور منصور ہادی جو ریاض میں پناہ گزیں ہیں کو یمن میں اپنے عہدے پر واپس بھیج دینا چاہیے تھا۔
ہاآرتض نے مزید لکھا: اس کے باوجود کہ سعودی عرب ماہانہ پانچ ارب ڈالر یمن میں اپنے جنوبی امریکہ اور افریقہ کے مزدوروں کو دیتا ہے اور ایک لاکھ ڈالر دیگر امور پر خرچ کرتا ہے، یہ سوال ریاض اور اس کے اتحادیوں کے ذہنوں میں کھٹک رہا ہے کہ آخر کیسے ایران کے مقابلے میں اپنی عزت و آبرو کو بچا کر یمن کے دلدل سے نکلا جا سکتا ہے؟
اس عبرانی زبان کے اخبار نے مزید تحریر کیا ہے کہ سعودی عرب نے تاحال جنوبی یمن میں واقع دھشتگرد گروہ القاعدہ کے ٹھکانے پر کوئی ایک حملہ نہیں کیا اور رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور عرب امارات در حقیقت القاعدہ کے عناصر کو استعمال کر رہے ہیں کہ وہ یمنی قبائل کو ریاض کی زیر سرپرستی حوثیوں سے لڑنے پر اکسائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲